نیوز نیشن آن لائن-ہائیکورٹ نے پیپلز پارٹی کے نو منتخب سینیٹر یوسف رضا
گیلانی اور رکن صوبائی اسمبلی علی حیدر گیلانی کی نا اہلی سے متعلق درخوست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردیا ۔تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان کی جانب سے دی گئی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے علی نواز اعوان کی درخواست پر سماعت کی،عدالت نے وکیل درخواست گزار پربرہمی کا اظہار کردیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو مطمن کریں کہ کیا یہ عدالت الیکشن ایکٹ سے تجاوز کرسکتی ہے۔ یہ عدالت الیکشن ایکٹ کے قوانین کو کیوں مد نظر رکھے۔آپ کا کیس الیکشن کمیشن کے پاس ہے پہلے وہ پلیٹ فارم استعمال کریں۔ابھی الیکشن پراسس چل رہا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کے رٹ قابل سماعت نہیں۔جوقانون ہے وہی ہوگا، قانون کے بغیر کوئی بھی ہائی کورٹ اس کو نہیں سن سکتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ علی نواز اچھے نمائندے ہیں آپ ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لاتے ہیں جس کے جواب میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی نواز نے کہا کہ ہم یہاں آرگو کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ آرگو نہ کریں اس عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے۔غیر ضروری طور پر عدالتوں کو سیاسی معاملا ت میں لانا ٹھیک نہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی نواز نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو چیلنج کیاتھااوردرخواست میں یوسف رضا گیلانی، علی حیدر گیلانی اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیاتھا۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیارکیاگیاتھا کہ یوسف رضا گیلانی نے دھاندلی اور پیسوں سے سینیٹ میں کامیابی حاصل کی، الیکشن کمیشن سے پوچھا جائے گیلانی کے کاغذات نامزدگی کیسے قبول کئے؟ مریم نواز نے اعتراف کیا وہ الیکشن پر اثرانداز ہوئیں۔ مریم نواز نے پارٹی ٹکٹ کی آفر سے اثر انداز ہونے کا اعتراف کیا، علی حیدر گیلانی غیر قانونی طور پر ہارس ٹریڈنگ کرتے پائے گئے۔پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا جائے، ان کی بطور سینیٹر کامیابی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دی جائے۔یوسف رضا گیلانی کی کامیاب کا نوٹیفکیشن بھی معطل کیا جائے۔




Post A Comment: